Profile # 143 Muzammil Shaikh (Lecturer in Islamic Studies - GDISC Hussainabad) مزمل شيخ

 


محترم جناب سر مزمّل شيخ صاحب 17 فروری 1982ع کو ضلع جامشورو کے شہر کوٹری میں پیدا ہوئے ۔ آپ نے ہیپی ہوم ہائی سکول کوٹری سے مڈل تک تعلیم حاصل کی ۔ آپ نے گورنمنٹ بوائز ھائی سکول کوٹری سے ميڻرک کا امتحان پاس کيا ـ آپ نے سڻی کالج، حیدرآباد سے انٹر کا امتحان پاس کيا ۔ آپ نے مدرسہ تعليم القرآن گودڑا محلہ، کوٹری سے حفظ قرآن کی سند حاصل کی اور جامعہ مفتاح العلوم، حیدرآباد سے درس نظامی کی سند حاصل کی ۔ آپ نے سندھ یونیورسٹی، جامشورو سے اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کی ڈگری حاصل کی ۔ آپ نے کمپيوٹر اور انگلش لينگويج کا کورس بھی کیا ہے ۔

آپ نے 2008ع میں حفاظ ايکسکلوزو ادارے، کراچی میں استاذ کے فرائض سر انجام ديئے ـ آپ نے 2009ع سے 2012ع تک بيت العلم ڻرسٹ، کراچی میں خدمات سر انجام ديں ـ آپ کی محکمہ تعليم میں 27 جولائی 2012ع کو بطور او ٹی تقرری گورنمنٹ کیمپس ھائی سکول اشاعت الاسلام کوٹری میں ہوئی ۔ آپ نے انگلش، اردو، آسان سندھی، اسلاميات اور عربی کے مضامین پڑھائے ہیں اور ساتويں کلاس کے کلاس ڻيچر رہے ہیں ۔ آپ 2010ع سے 2014ع تک مختلف حلقوں میں طلباء کو مختلف ڻيسڻس کی تياری کرواتے رہے اور 2012ع سے اسڻرگل کرتے رہے، کبھی ہمت نہ ہاری ـ آپ نے 2019ع میں ايس پی ايس سی کے تھرو اپلائے کيا اور 7 اگست 2023ع کو آپ کی بطور لیکچرر ان اسلامک اسٹڈیز تقرری گورنمنٹ دہلی انٹر سائنس کالج حسین آباد، گلبرگ ٹاؤن، ضلع ناظم آباد، کراچی میں ہوئی ۔ آپ بہت اچھے طریقے سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔

آپ مدرسے میں دوران تعليم پوزيشن ہولڈر رہے ہیں اور آپ کو مدارس میں بطور استاذ کئی بار بيسٹ ڻيچر کے ايوارڈ سے نوازا گیا ہے ـ آپ کو شاعری سے بھی لگاؤ ہے ـ آپ کی تبليغی جماعت سے وابسطگی رہی ہے ـ آپ کے اندر خدمت خلق کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ـ آپ نے دبئی، سعودی عرب، مڈگاسکر اور کينيا کا سفر کيا ہے ـ

آپ کے والد محمّد شيخ صاحب کوٹری کے مشہور کاروباری شخصيت ہیں ۔ آپ بہن بھائیوں میں پانچويں نمبر پر ہیں ۔ آپ کے بڑے بھائی مرسلين شيخ صاحب اکائونٹنٹ ہیں ۔ آپ کے دوسرے بڑے بھائی احسن شيخ صاحب امريکہ میں سافٹ ويئر انجنيئر ہیں ۔ آپ کے تيسرے بڑے بھائی حافظ حارث شيخ صاحب کمپيوٹر آپريٹر ہیں ۔

آپ نے فیسبوک کے توسط سے طلباء اور عوام الناس کو ان الفاظ میں پیغام دیا " اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہے بلکہ کسی بھی قوم یا معاشرے کی ترقی کی ضامن ہے اور یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کا مطلب محض اسکول، کالج، یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اس کے ساتھ تمیز اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور اقدار کا خیال رکھ سکے ۔ چونکہ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے، ایٹمی ترقی کا دور ہے سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے مگر اسکولوں میں بنیادی عصری تعلیم، ٹیکنیکل تعلیم، انجینئرنگ، وکالت، ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اس کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے ۔"

سندہ ايجوکيٹرز کی ٹيم آپ کی خدمات کو سلام پيش کرتی ہے ـ

Comments

Popular posts from this blog

Profile # 37 Akbar Ahmed Channa (HST - GBHS Kotri) اڪبر احمد چنہ

Profile # 12 Mushtaque Ahmed Rahu (HST - GHSS Kazi Ahmed) مشتاق احمد راھو

Profile # 10 Abdul Saleem Mughal (PST - GBPSII Kotri) عبدالسليم مغل